بھارتی پولیس اب شوہر کو بیوی کی مار پیٹ سے بچانے کی ڈیوٹی بھی انجام دیگی

نئی دہلی (جے ٹی این پی کے نیوز) بھارتی پولیس اب شوہر کو بیوی

بھارتی صوبے راجستھان کے ضلع الور میں ایک سرکاری سکول کے پرنسپل اجیت
یادو نے مقامی عدالت سے درخواست کی کہ اسے اپنی بیوی کے ہاتھوں مسلسل مار
پیٹ اور زیادتی سے بچایا جائے۔ اجیت نے عدالت کو بتایا کہ اس کی اہلیہ سُمن گزشتہ
کئی برسوں سے ان پر تشدد کرتی چلی آ رہی ہے اور ایک برس سے اس زیادتی کا
سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اجیت نے بیوی کے ظلم کی وڈیوز بھی عدالت میں پیش کیں جس
پر عدالت نے پولیس کو تفتیش اور مظلوم شوہر کو سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔

پرنسپل اجیت یادو نے نو برس قبل سُمن سے لو میرج کی

تفصیلات کے مطابق سکول پرنسپل اجیت یادو نے نو برس قبل سمن نامی خاتون سے لو
میرج کی تھی۔ عدالت میں پیش کی گئی وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی
بیوی اسے کرکٹ کے بلے، لوہے کے توے اور دیگر گھریلو اشیاء سے پیٹ رہی ہے
جبکہ ان کا بیٹا بے بسی سے دیکھ رہا ہے۔ اجیت یادو نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے بیوی
کی زیادتی کا ثبوت فراہم کرنے کیلئے گھر میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگوا دیا تھا۔

سُمن نے معمولی معمولی باتوں پر بلاوجہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا

اجیت کے مطابق شادی کے بعد ہی اس کی بیوی نے معمولی باتوں پر بلاوجہ جھگڑنا
شروع کر دیا۔ جو سامان بھی ہاتھ لگتا اس سے پٹائی کر دیتی، بلے سے پٹنے پر اسے
سرکاری ہسپتال میں علاج کرانا پڑا۔ اجیت کا مطالبہ ہے کہ اسکی بیوی کو زیادتیوں کی
سزا ملنی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس شخص کی بیوی کے ہاتھوں پٹائی کی وڈیو گزشتہ
دنوں وائرل ہوئی تھی۔

بھارت میں ہزار میں سے 51.5 مرد بیویوں کے ہاتھوں مار پیٹ کا شکار ، رپورٹ

بھارت میں بیوی کے ہاتھوں شوہر کیخلاف زیادتیوں کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔
جہیز کے نام پر شوہروں کیخلاف مقدمات اور ذہنی اذیت پہنچانا عام بات ہے۔ ایک تحقیق
کے مطابق بھارت میں 1000 مردوں میں سے 51.5 فیصد اپنی زندگی میں کم از کم ایک
بار بیوی کے ہاتھوں تشدد کا شکار ضرور ہوتے ہیں۔ بھارتی قانون میں شوہر کیخلاف
گھریلو تشدد کو جرم تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسے قوانین خواتین کو مدنظر رکھ کر
بنائے گئے ہیں۔ بیشتر مرد خاموشی سے بیوی کی زیادتی برداشت کرتے ہیں اور اگر بیوی
قصوروار ثابت ہو بھی جائے تب بھی وہ خواتین کیخلاف سخت قوانین نہ ہونے کے سبب
آسانی سے بچ نکلتی ہے۔

بزرگ ماؤں کے اولڈ ایج ہوم میں جانے کی بھی یہی وجہ ہے، قانونی ماہرین

بھارتی قانونی ماہرین کہتے ہیں خواتین کو بااختیار بنانے کا قانون دراصل بیوی کو بااختیار
بنانے کا قانون ہے۔ بہت سی بزرگ مائیں صرف اس وجہ سے اولڈ ایج ہوم چلی جاتی ہیں
تاکہ بہو ان کے بیٹے کو ہراساں نہ کرے۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

بھارتی پولیس اب شوہر کو بیوی ، بھارتی پولیس اب شوہر کو بیوی ، بھارتی پولیس اب شوہر کو بیوی

===> مزید دلچسپ اور عجیب وغریب خبریں (== پڑھیں ==)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: