بڈھ بیر، ایک اور بچی معذور، ذمہ دار کون؟ کنڈا کلچر یا محکمہ واپڈا

پشاور: بیورو چیف/عمران رشید خان: بڈھ بیر، ایک اور بچی معذور

Imran Rasheed

پشاور کے
مضافاتی علاقوں سے کنڈا کلچر تو ختم نہ ہوسکا
البتہ آئے روز کہیں نہ کہیں بجلی کی تاریں گرنے
سے انسانی جانیں ختم ہورہی ہیں یا پھر گلی
محلوں میں کھلنے والے معصوم بچے اسکا نشانہ
بن کر ہمیشہ کیلئے معذور ہوجاتے ہیں دوسری
طرف محکمہ واپڈا اور مقامی پولیس بھی اس
کنڈا کلچر کی سرپرست بن کر اس کو فروغ دینے
میں مدد گار ثابت ہوتی نظر آرہی ہے کچھ اسی
طرح کا واقعہ پشاور کے مضافات میں تھانہ بڈھ
بیر کے علاقے باڑہ شیخان کلے میں رونماء ہوا
جہاں پر ایک 6 سالہ بچی مروا ولد عبداللہ اپنے
گھر کے قریب چمن میں دیگر بچوں کے ہمراہ
کھیل کود میں مصروف تھی کہ اس دوران اس
پر بجلی کی گیارہ ہزار کے وی کی تار گر پڑی
جس کے نتیجے میں معصوم بچی کی انگلیاں کٹ
گئیں اور جھلس کر جسم پر جگہ جگہ پر گہرے
زخم بن گئے

پولیس کی عجیب و غریب منطق ۔۔

معصوم بچی کو جب ہسپتال لے جایا گیا تو
حالت نازک ہونے کی بناء پر اس کو وارڈ میں داخل کردیا گیا جبکہ پریشانی میں مبتلا بچی کے والد نے پولیس رپورٹ کیلئے متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے چاہی تو پولیس نے مقدمہ درج کرنیکی بجائے متاثرہ بچی کے والد عبداللہ سکنہ باڑہ شیخان کو چکماء دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ درج کرلی گئی ہے تاہم بچی کے والد کا کہنا ہے کہ انکے پڑوسیوں با اثر افراد زر علی ، سعد خان ، رنڑاں خان کے خلاف تاحال کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی اور پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں پولیس ایف آئی آر درج ہونے کا سرے سے کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے۔

انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار

دوسری جانب متاثرین نے واپڈا ایس ڈی او پیسکو کو بھی تحریری شکایات درج کرائی درخواست گزار میں بتایا گیا کہ مزکورہ بالا افراد نے بجلی کی تیس گز اور پچاس گز کی دو تاریں لکڑی کے بانسوں کے سہارے سے ڈائریکٹ بجلی کے غیر قانونی کنکشن کیلئے گیارہ ہزار کے وی کے 2 تار گزار رکھے ہیں جن میں سے ایک معصوم بچی پر گری جس کی وجہ سے وہ ساری زندگی کیلئے ایک ہاتھ سے معزور ہوگئی تاہم اس کے باوجود کسی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں نہ آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں کنڈا کلچر متعلقہ محکمہ واپڈا اور پولیس افسران کے لئے باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے جبکہ اس کے خاتمے کیلئے کی جانیوالی اکثر کاروائیاں صرف خانہ پری کیلئے کی جاتی ہیں۔

متاثرین کا وزیراعظم و وزیراعلیٰ سے مطالبہ

پشاور کے مضافاتی علاقے باڑہ شیخان بڈھ بیر کے رہائشی نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف سیکرٹری ، وزیراعلیٰ محمود خان، آئی جی پولیس خیبر پختونخوا، محکمہ واپڈا حکام (پیسکو) سمیت اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

بڈھ بیر، ایک اور بچی معذور

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: