اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ

اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ

ارشد شریف کو صحافی کہیں یا سیاسی کارکن کسی کے اظہار رائے پر پابندی لگانا درست ہے نہ ہی اس کی جان لینا جائز ہے۔

ارشد شریف نے اگر شریف خاندان کے بارے میں منفی الفاظ استعمال کیے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مریم نواز یا شریف خاندان کے خیر خواہ ارشد شریف کے قتل پر جشن منائیں۔

ارشد شریف انسان بھی تھا۔ کسی کا باپ، کسی کا سرتاج، کسی کا بیٹا اور کسی کا بھائی بھی تھا۔

ارشد شریف کا قتل سفاکیت، چنگیزیت، بہیمیت، وحشت اور بربریت ہے۔

رب تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

پڑھیں : خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائیگا

جو لوگ ارشد شریف کے قتل پر سیاست کر رہے ہیں وہ مبہم و مشکوک گفتگو کرنے کی بجائے کھل کر بتائیں کہ کون ملوث ہے؟

عمران خان مطلع فرمائیں کہ ارشد شریف کو کس نے دھمکیاں دیں، کون قتل کرنا چاہتا تھا؟

مراد سعید واضح کریں کہ خطوط کس نے لکھے اور کس نے بھیجے؟

فیصل واوڈا صاف صاف بتائیں کہ سازش کس نے تیار کی، پاکستان میں کہاں پر منصوبہ بندی کی گئی،

ارشد شریف کو بیرون ملک کس نے بھجوایا،

دبئی سے کس نے نکلوایا اور کینیا جانے کے لیے کس نے مشورہ دیا اور گاڑی میں ڈرائیور نے گولی ماری یا کوئی تیسرا شخص بھی موجود تھا؟

خیبر پختونخوا حکومت بتائے کہ وہ ارشد شریف کو تحفظ کیوں نہیں دے سکتی تھی

اور انہیں صرف خطرات سے آگاہ کرنا ہی ضروری سمجھا، آخر انہیں کون قتل کرنا چاہتا تھا؟

مزید پڑھیں : جو بووو گے وہ لازمی کاٹو گے

آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرلز جنرل بابر افتخار اور جنرل ندیم انجم نے تو پی ٹی آئی اور عمران خان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔

قبل ازیں اس طرح کی معلومات، تفصیلات اور حقائق منظر عام پر نہیں لائے گئے تھے جو جمعرات کے روز کی نیوز کانفرنس میں کھول کھول کر بیان کیے گئے۔

ارشد شریف کے قتل کے بارے میں حساس اداروں کے ملوث ہونے کے اشاروں،

کنایوں اور چہ مے گوئیوں کے بعد فوجی اداروں کے ڈائریکٹر جنرلز نے مقتول

کے قتل کی اعلی ترین سطح پر تحقیقات کی تجویز دیتے ہوئے ضرورت پڑنے پر

بین الاقوامی ماہرین کی مدد و معاونت لینے کا مشورہ بھی دیا۔

یہ بھی پڑھیں : آخر کب تک لکھیں گے ۔۔۔؟

انہوں نے سائفر کی بے بنیاد و جھوٹی داستان اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔

سازش کے موقف کو سختی کیساتھ مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کا سبب قرار دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس بنیاد پر میر صادق، میر جعفر، نیوٹرل اور جانور کہا گیا۔

جلسے میں کاغذ کا ٹکڑا لہرا کر حیران کیا گیا۔

انہوں نے ارشد شریف کو دھمکی ملنے، حملہ ہونے اور قتل کر دینے

کی اطلاعات اور مقتول کو بیرون ملک جانے کا مشورہ دینے سمیت دیگر

معاملات پر سوالات کے جوابات دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

مذکورہ نیوز کانفرنس کے بعد یہ حقیقت بھی منکشف ہو چکی ہے کہ فوج

اور عمران خان کے مابین فی الحال پکی پکی جدائی ہو چکی ہے اور تعلقات اس

نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان کی لن ترانیوں، بے بنیاد باتوں، جھوٹے دعووں

اور سیاسی نعروں کے اوپر پڑی ہوئی جعل سازی کی دبیز تہوں کو نوچ ڈالا ہے۔

جس طرح عمران خان نے حساس اداروں کو ہدف بنایا اسی طرح جواب نہیں آ رہا تھا

مگر ارشد شریف کے قتل اور اسٹیبلشمنٹ پر انگلیاں اٹھا کر سیاسی حربے اور ہتھکنڈے

استعمال کرنے پر فوجی ترجمان نے حقائق واضح کر دیے۔

ان کی نیوز کانفرنس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ، وزیر دفاع آصف خواجہ اور دیگر

حکومتی شخصیات نے بھی تائید و حمایت کرتے ہوئے فوج کی سیاست سے علیحدگی کے عزم کو سراہا۔

ارشد شریف پر مقدمات سے متعلق اہم سوالات

تاہم سوال تو یہ بھی ہے کہ ارشد شریف کے خلاف مقدمات کس نے، کیوں اور کس کے کہنے پر درج کیے

اور کروائے، انہیں ہراساں کیوں کیا گیا اور ریاست نے تحفظ کیوں نہیں دیا؟

کیا ریاست اس قدر کمزور اور غیر مستحکم ہے کہ سازشیوں کا پتہ نہیں، انہیں قانون کے شکنجے میں نہیں لایا جا سکتا؟

اگر ریاست بےخبر و لاعلم یا اپنی عملداری قائم کرنے سے قاصر ہے تو اعتراف کر لینا چاہیے

کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ وطن عزیز میں اپنا کھیل کھل کر کھیل رہی ہے اور اس کے ایجنٹس زور آور و طاقتور ہیں۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ , اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ , اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ , اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: