انوکھی محبت کی سچی کہانی ” کلپنا ” ( پہلی قسط )

( تحریر: پلوشہ خان ) انوکھی محبت کی سچی کہانی

Palwsha Khan

ایکسکیوز می پلیز۔۔۔۔ دِیدَۂ مَخْمُور کیا اٹھی کہ ماحول خمار آلود ہوگیا دِیدَۂ مشتاق ابھی مَحْو نَظارَہ ہی تھی کہ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں سے لفظ پھولوں کی طرح جھڑنے لگے گُلِ رَعْنا نے کہا آپ سمجھے نہیں تو گل باغی خان نے نہیں میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھا دیں جس پر اسے جواب ملا کہ مار کھانی ہے آپ نے۔۔۔

ترے لبوں کو ملی ہے ۔۔۔ شگفتگی گل کی
ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں

گل باغی نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے عرض کی کہ مار کھانے کا ذکر ہی کیا آپکی خاطر تو ہم جاں سے بھی جائیں تو سودا گاٹے کا نہ ہوگا گلے رعنا نے کہا کہ اب آپ واپس جاؤ میرا گھر قریب ہے کوئی دیکھ لے گا۔۔۔وہ ابھی واپس پلٹ ہی رہا تھا کہ

شاہراہ کی دوسری سائیڈ پر چلنے والے چند راہ گیر رُکے- ان کے چہروں پر غضب کا غصہ دکھائی دے رہا تھا-

= پڑھیں = ملکہ برطانیہ کی جانب سے میگھن کی ساتھ رہنے کی درخواست رد کرنے کا انکشاف

ایسا لگا رہا تھا کہ اس کی گل رعنا سے کی گئی بات سچ ثابت ہو گئی- بس اب تو جان سے گیا-
گل باغی ابھی یہی سوچ ہی رہا تھا کہ راہ گیروں نے اسے آواز دے کر للکارہ اور اس کی طرف بڑھنے لگے-

اس دوران یک دم میدان میں جہان گل نے انٹری دی- نہایت چالاکی اور ہوشیاری کا مظاہرہ کیا-

گل باغی پر مشتعل افراد کو اِدھر اُدھر کی باتوں میں الجھا کر گل باغی کو وہاں سے نکالا، اور معاملہ رفع دفع کر دیا-

جہان گل بروقت نہ پہنچتا تو گل باغی کا انجام کیا ہوتا۔۔؟

قارئین! یقیناََ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کہانی میں یہ تیسرا کردار جہان گل خان کون ہے-؟

اس نے عین وقت پر کیوں گل باغی کی مدد کی- اسے اس چنگل سے نکالا- اگر وہ موقع پر نہ پہنچتا تو اس گُل باعی کا کیا انجام ہوتا-

خیر آپ کو ( انوکھی محبت ) کا تو آگے چل کر پتہ چلے گا، اس لئے آگے بڑھتے ہیں-

انوکھی محبت کی سچی کہانی

باغی خان اور گل رعنا کا تعلق پختون معاشرے سے تھا, جسکی اپنی اقدار اور ان پر عمل ضروری ہے –

جہاں راہ چلتی صنفِ نازک سے محبت بھرے جذبات کا اظہار کرنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے-

بصورت دیگر ایسی حرکت کا مرتکب لہولہان ہو کر زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو کر ہسپتال کی ایمرجنسی جا پہنچتا ہے-

= پڑھیں = ایجنٹ 909 کی سسپنس سے بھری سچی کہانیاں

گھر والوں، دوستوں کے آگے طرح طرح کے بہانے بنانا مجبوری بن جاتی ہے- مثلاََ موٹرسائیکل سے گر گیا-

کیلے کے چھلکے سے پھسل کر گرا، تو دانت ٹوٹ گئے، ناک پر زخم آئے، ہونٹ پھٹ گئے وغیرہ وغیرہ-

اگر کسی کو اصل بات کا پتہ چل گیا تو عمر بھر” لوز کریکٹر ” کا الزام جھینلا پڑتا ہے- "چاہت گئی تیل لینے”

انوکھی محبت کی سچی کہانی

دراصل اس” کلپنا ” کہانی کا آغاز موسم بہار سے ہوا- گل باغی اور جہان گل میں گہری دوستی تھی-
گل باغی میٹرک کے رزلٹ کا منتظر تو جہان گل اپنا نام ہی لکھ پاتا تھا- مگر دونوں مضبوط ، لڑاکا اور مٹر گشت کے چیمپئن تھے-

= گُل باغی بن ٹھن کر ایسے نکلا جیسے کلاس ون آفیسر ہو =

اس دن گل باغی خان نے نئے کپڑے واسکٹ زیب تن کئے، پالش شدہ چمکدار پشاوری چپلی پہنی-

بن ٹھن کر گھر سے ایسے باہر نکلا جیسے ” کلاس ون آفیسر ” کو دفتر پہنچنا ہو-

راستے میں جان پہچان والوں سے ہاتھ اٹھا کر سلام دعا کرتا ہوا، اپنی منزل مقصود کی جانب بڑھ گیا-

اندرون شہر گلیوں سے ہوتا ہوا، جگری دوست کے گھر پہنچا، دستک دی، تو جہان گل ایسے فوری باہر آیا جیسے وہ دروازے کے پیچھے ہی کھڑا تھا-

انوکھی محبت کی سچی کہانی

دونوں نے آج کہاں کی آوارہ گردی سے متعلق چند لمحے مشاورت کی، پھر انہوں نے سٹی سے کینٹ کی جانب رخ کیا-

گل جہان نے والد جو سنہار تھا کی دکان پر حاضری دی، پیسے لئے، اور چھو منتر ہو گئے-

=-= دونوں آپس میں مستیاں کر رہے تھے کہ اچانک =-=

انوکھی محبت کی سچی کہانی

دوران آوارہ گردی کئی دکانوں پر جا کر مختلف اشیاء کا ریٹ پوچھا- مگر خریداری نہ کی-

سموسہ چاٹ، آلو چھولے وغیرہ کھا کر سیر ہوئے-  واپسی کیلئے بس سٹاپ پر پہنچے- 

گھر جانے کیلئے لوکل مژدہ بس پر سوار ہو گئے-  آپس میں مستیاں کر رہے تھے کہ اچانک —– 

۔۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔

گل باغی اور گُلِ رَعْنا کی انوکھی محبت آگے چل کر کیا ہوتا ہے جاننے کیلئے ہمارے ساتھ جڑے رہیں

پڑھیں اگلی قسط انوکھی محبت کی سچی کہانی ” کلپنا ” دوسری قسط

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ

جتن نیوز اردو انتظامیہ

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: