انوکھی محبت کی سچی کہانی ” کلپنا ” دوسری قسط

( تحریر: پلوشہ خان ) ” کلپنا ” دوسری قسط

Palwsha Khan
Writer Anokhhi Muhabat ki Sachi Kahani

قارئین ! پہلی قسط ٹھیک اس جگہ ختم ہوئی جہاں گل باغی اور جہان گل واپس

گھر لوٹنے کیلئے سٹاپ سے لوکل مژدہ بس میں سوار ہوتے ہیں اور آپس میں

دھکم پیل اور خرمستیاں کرنے میں مشغول ہوتے ہیں کہ اچانک —

شروع کرتے ہیں-

” کلپنا ” دوسری قسط

اچانک ان کی نظر بس میں موجود دیگر افراد پر پڑی تو انہیں محسوس ہوا کہ وہ ان کی

توجہ کا مرکز بنے ہیں- دونوں نے چند لمحے خاموشی اختیار کی تو، اتنی دیر میں

سامنے سیٹوں پر سے کچھ لوگ اٹھ کر بس کے گیٹ کی طرف بڑھنے لگے، تو، یہ دونوں

پھرتیلے نوجوان آگے کی طرف لپکے اور فوراً سامنے خالی ہونیوالی سیٹوں پر بیٹھ گئے-

گل باغی کو چھٹی حس نے پہلے ہی سگنل دیدیا تھا کہ کوئی اسے تاک رہا ہے، ٹھیک

اسی وقت سے جب وہ جہان گل کے ساتھ مل کر بس میں شرارت میں مگن تھا-

= پڑھیں= انوکھی محبت کی سچی کہانی ” کلپنا ” ( پہلی قسط )

اب اس نے ان ٹکٹکی باندھی تکنے والی نگاہوں کی طرف نظر ڈالی تو نظر وہیں رک گئی،

سامنے خواتین والی نشت پر اک بالی عمر کی نو خیز حسینہ ، کھلتی کلی کی مانند

مسکراتا چہرہ ، آنکھیں ایسی کہ جیسے ان میں اک الگ ہی دنیا بسی ہو ، اب وہ اس

خوبرو دوشیزہ پر پہلی نظر میں ہی دل ہارنے کو تھا، تو لڑکی نے بھی اس کا دھیان

کسی دوسری طرف بھٹکنے نہ دیا اور اپنے ناز و ادا سے گل باغی پر ایک دوسرا وار کیا-

اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی سے ہاتھوں کے اشاروں کیساتھ بات شروع کی، گل باغی کی

توجہ اپنے گورے نازک مہندی والے ہاتھوں کی جانب مبذول کرائی ، دل میں آگ مزید

بڑھک اٹھی تو اب وہ سر تا پا گل باغی کی توجہ کا مرکز بن چکی تھی، اور اوپر سے

جلتی پر تیل ایسے کہ بس میں لتا منگیشکر کی سریلی آواز میں صدا بہار گانا چل رہا

تھا۔

 ” آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے”

 * اور پھر اُس پر اِس شعر سے تو حد ہی ہو گئی

 ” جی ہمیں منظور ہے آپ کا ہر فیصلہ "

 

جیسے لمحوں میں ہونیوالی چاہت ، منٹوں میں ہی پروان چڑھ گئی، ادھر جہان گل اس

بازیچہ چاہت کے لمحوں کو دیکھ کر حیران بھی تھا اور خوش بھی کیونکہ اس نے گل باغی

کی زندگی میں آج سے پہلے کبھی یہ لمحات نہیں دیکھے تھے، تاہم گل باغی کے ذہن

میں یہ بات تھی کہ ان کا مطلوبہ بس سٹاپ منٹ دو کے فاصلے پر ہے، لیکن وہ ان لمحات

کو طول دینے کے حق میں تھا، مگر اتنے میں جب بس سٹاپ کے قریب پہنچی تو سامنے

ہل جل ہوئی تو گل باغی کا چہرہ کھل اٹھا، کہ دونوں نے ایک ہی سٹاپ پر اترنا ہے-

 

بس رُکی وہ اتری تو پیچھے اترنے پر یہ معلوم ہوا کہ بس سٹاپ تو ایک ہی تھا، لیکن گل

باغی کا سفر فصیل شہر کی جانب اور اس کی نئی نویلی دلربا مخالف طرف چل دی،

جس پر وہ بھی اس کے پیچھے چل دیا، اور اپنے پیار بھرے جذبات کا اظہار کرنے کا فیصلہ

کر لیا-

 

قارئین اس سے آگے کیا ہوا وہ تو آپ پہلی قسط میں جان ہی چکے ہیں کیونکہ 

کہانی کا آغازِ تحریر یہیں ہوا تھا اب ذرا اس سے آگے ۔۔۔۔

 

پہلی قسط میں آپ نے پڑھا کہ جہان گل نے کس چالاقی اور ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے

ہوئے گل باغی کو ان آگ بگولہ راہگیروں کے چنگل سے نکالا جو کہ راستے میں لڑکی کو

چھیڑنے کی پاداش میں گل باغی کے سر پر سوار عشق کا بھوت دو منٹوں میں اتار

دیتے-

= تمہاری لڑکی سے کیا بات ہوئی، جہان گل کا گل باغی سے سوال

لیکن یہاں یہ خیال رہے کہ اگر ان میں ہاتھا پائی ہو جاتی تو گل باغی اور جہان گل بھی

کچھ کم لڑاکا نہ تھے البتہ معاملہ رفع دفع ہونے کے بعد جب دونوں واپس آ رہے تھے، تو

جہان گل نے گل باغی سے پوچھا کہ آخر تمہاری لڑکی سے کیا بات ہوئی، جس پر اس

نے جواب دیا کہ لڑکی نے اسے کہا کہ اب واپس جاؤ، میرا گھر قریب ہے کوئی دیکھ لے گا-

 

بس یہ کہنا ہی تھا کہ جہان گل نے کہا کہ تم اس لڑکی پر فریفتہ ہو گئے اور گھر معلوم

نہیں— پھر کہاں اس کے پیچھے مارے مارے پھرو گے، اور ساتھ مجھے بھی اسے

ڈھونڈنے لاؤ گے، لہٰذا ابھی نہیں تو کبھی نہیں، لیکن گل باغی کبھی نہیں والی بات پر

ہرگز آمادہ نہیں تھا، تاہم دونوں نے رکشہ رُوکا اور اس کے پیچھے روانہ ہوئے-

 

قسمت نے ساتھ دیا اور لڑکی ابھی گھر میں گھس ہی رہی تھی کہ گل باغی نے دیکھ

لیا، گھر کا ایڈریس معلوم ہوا، تو دونوں ہنسی خوشی رکشہ سے اتر کر پیدل واپس جانے

لگے، اب راستے میں گل باغی اپنے دوست کو اس کی خوبصورتی، لڑکی کی طرف سے

گل باغی کو پسند کرنے کی باتیں اور دلائل دیتا رہا، لیکن —

—– جاری —–

کیا یہ گل باغی کی محض خوش فہمی تھی، لڑکی نے کچھ دیر کیلئے صرف اُس

کا دل بھلانے یا اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی کیساتھ ملکر اسے بے وقوف بنانے کے

لئے ڈراما رچایا، اور کیا لڑ  کی کے گھر کا پتہ مل جانے کا مطلب لڑکی مل گئی،

ان ساری باتوں کا جواب جاننے کیلئے ہمارے ساتھ جڑے رہیں، اگلی قسط میں

کہانی کیا رخ اختیار کرتی ہے۔۔؟

 

” کلپنا ” دوسری قسط ، ” کلپنا ” دوسری قسط ، ” کلپنا ” دوسری قسط

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘‘ کریں ،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں ، شکریہ ، جتن انتظامیہ

 

دلچسپ و عجیب

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: