افغانوں کوامریکیوں کی نیت پر تحفظات ہیں ، سراج الدین حقانی

کابل (جے ٹی این پی کے) امریکیوں کی نیت پر تحفظات ہیں

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان نے امریکہ کو بڑی دھمکی دے دی

افغان طالبان حکومت میں قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا کہنا ہے کہ ان
کی تنظیم امریکا کو "دشمن” کے طور پر نہیں دیکھتی ہے اور تنظیم امریکا سمیت
بقیہ دنیا کیساتھ سفارتی روایات پر مبنی سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے.

حقانی نے یہ بات اپنے پہلے نیوز انٹرویو میں کہی. وہ کابل میں امریکی نیوز چینل
سی این این کی خاتون صحافی کرسٹیان امانپور کے ساتھ خصوصی گفتگو کر رہے
تھے. یہ انٹرویو دو حصوں میں مکمل ہوا۔

لڑکیوں کی تعلیم "ان کے دائرے میں” رہ کر ہونی چاہیے

حقانی نے باور کرایا کہ افغانستان کی سرزمین کو "کسی کے لیے بھی خطرے کا
ذریعہ ہر گز نہیں بننے دیا جائے گا .ہم کسی دہشت گرد گروپ کو اجازت نہیں دیں
گے کہ وہ امریکا یا اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے ہماری سرزمین کا استعمال
کرے”۔افغان وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت خواتین کی تعلیم یا ان کے
کام کرنے کے خلاف نہیں ہے. تاہم لڑکیوں کی تعلیم "ان کے دائرے میں” رہ کر ہونی
چاہیے۔

افغانستان میں پردہ "لازم” نہیں ہے

حقانی نے زور دیا کہ افغانستان میں پردہ "لازم” نہیں ہے۔ تاہم پھر وہ اپنی بات سے
واپس پلٹے اور کہا کہ یہ "فرض ہے جسے تمام لوگوں کو لاگو کرنا چاہیے”۔ طالبان
ان اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "امریکا کے ساتھ
معاہدہ طے پانے کے بعد اب ہم امریکیوں کو بطور دشمن نہیں دیکھتے تاہم افغانوں
کو ان (امریکیوں) کی نیت کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

لڑکیوں کو چھٹی جماعت تک اسکول جانے کی اجازت پہلے ہی دے چکے ہیں

حقانی نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ "ہمارے نزدیک ہمارے ملک کی آزادی
اور اس کا دفاع یہ ایک قانونی حق ہے جو بین الاقوامی قوانین کے ساتھ مطابقت
رکھتا ہے” حقانی نے واضح کیا کہ "ہم لڑکیوں کو چھٹی جماعت تک اسکول جانے
کی اجازت پہلے ہی دے چکے ہیں اور اس سے اوپر کی سطح کے لیے کام کر رہے
ہیں۔ آپ لوگ جلد اس حوالے سے اچھی خبر سن سکیں گے۔

طالبان جنگجوؤں کی نصف تعداد ابھی تک روزگار سے محروم ہے

حقانی کے مطابق افغانستان میں ثقافتی اور قومی روایات اور رواج ہیں جن کے
دائرے میں رہتے ہوئے ہم خواتین کو کام کے مواقع فراہم کرنے کا طریقہ کار
وضع کر رہے ہیں۔حقا حقانی نے کہا کہ بے روزگاری صرف خواتین کا مسئلہ
نہیں ہے بلکہ بہت سے لوگ اس کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں
کی نصف تعداد ابھی تک روزگار سے محروم ہے۔

امریکیوں کی نیت پر تحفظات ہیں

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: