الحمراء آرٹ میوزیم!عظیم آرٹسٹوں کی موجودگی کا احساس دلاتے فن پاروں کا مرکز

تحریر : صبح صادق : الحمراء آرٹ میوزیم!
فن پارے کسی بھی قوم کی اعلیٰ اقدار کے آئینہ دار ہوتے ہیں جس سے اس قوم کی ہزار ہاسالہ تہذیب و تمدن، ثقافت اور معاشرت بخوبی جھلکتی ہیں۔
پاکستان مصوروی کے شعبے میں بڑے بڑے نام پیدا کرنے میں ایک زرخیز ترین خطہ رہا ہے۔

ہم اس حوالے سے اپنی خوش بختی پر فخر کر سکتے ہیں کہ قدرت نے ہمیں ایسے ایسے آرٹسٹوں سے نوازا جن کے بنائے ہوئے فن پارے دعوت نظارہ ہی نہیں، فکری غذا بھی دیتے ہیں،

اور ماضی سے ہمارے رشتے ناطے جوڑتے اور فخر سے ہمارا سر بھی بلند کرتے نظرآتے ہیں۔

الحمراء آرٹ میوزیم میں عالمی شہرت یافتہ 116 آرٹسٹوں کے 175 سے زائد فن پارے موجود

اگر ہماری نگاہیں ایسا مرکز تلاش کرنا چاہیں جہاں ہم اپنے آرٹ کا خزانہ موجود پائیں تو ہمیں الحمراء آرٹ میوزیم ہی وہ واحد جگہ ملے گی،

جہاں ہمارے عالمی شہرت یافتہ 116 آرٹسٹوں کے 175 سے زائد فن پارے رکھے گئے ہیں۔

الحمراء آرٹ میوزیم اپنی نوعیت کی ایسی منفرد جگہ ہے جہاں

موجود فن پاروں کے ذریعے ہم اپنے شاندار ماضی، حال کے

اتار چڑھاؤ اور مستقبل کی پیشگوئیوں کیساتھ ساتھ اپنی اقدار،

رسوم و رواج، سماجی و معاشرتی رویوں کا حال جان سکتے ہیں۔

یعنی الحمراء آرٹ میوزیم ہماری نئی نسل کو اپنی عظمت رفتہ سے روشناس کرنے کے قابل قدار اور کامیاب کو ششیں کر رہا ہے۔

الحمراء کلچرل کمپلیکس، لاہور آرٹس کونسل الحمراء کا ایک ذیلی ادارہ ہے جہاں یہ الحمراء آرٹ میوزیم کی شاندار عمارت موجود ہے۔

الحمراء کلچرل کمپلیکس میں 1996ء میں الحمراء پر مانیٹ آرٹ گیلری کا وجود عمل میں لایا گیا۔

آرٹ گیلری کو 2017 میں الحمراء آرٹ میوزیم کا نام دیا گیا

2017ء میں اس آرٹ گیلری کی تزوئین و آرائش کی گئی اور اسے الحمراء آرٹ میوزیم کا نیا نام دے دیا گیا۔

الحمراء آرٹ میوزیم پاکستان میں ایسا واحد میوزیم ہے جہاں پر صرف آرٹسٹوں کے بنائے ہوئے فن پارے ہی رکھے گئے ہیں،

ان مصوروں میں عبد الرحمن چغتائی، استاد اللہ بخش، صادقین، شاکرعلی، ایس صفدر، حنیف رامے، شمزا، احمد پرویز،

کولن ڈیوڈ، اسلم کمال، جمی انجینئر، میری کترینا، کامل خان ممتاز، انا مولیکا احمد، سعید اختر، زبیدہ آغا، خالد اقبال جیسے

عالمی شہرت یافتہ نام شامل ہیں۔

مختلف تعلیمی اداروں کے وفود الحمراء آرٹ میوزیم کا گاہے بگاہے دورہ کرتے رہتے ہیں،

سٹوڈئٹس کو اس میوزیم میں رکھے گئے فن پاروں کی مدد سے اپنے آئیڈیل کے انتخاب میں آسانی ہو رہی ہے،

وہ اپنے کام کو نئے نئے زاویے عطا کر رہے ہیں،

الحمراء آرٹ میوزیم کی بدولت فائن آرٹ کے طلبہ کو اپنے تھیسز کے موضوعات کے انتخاب میں بھی آسانی ہو رہی ہے،

الحمراء آرٹ میوزیم ہر خاص و عام کے لئے دفتری اوقات کار میں کھلا رہتا ہے،

الحمراء آرٹ میوزیم فائن آرٹ کے طلبہ کیلئے بڑا خزانہ

سکالرز، محقق ، سیاح ، طالب علم اور مورخ بھی اس میوزیم کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں،

الحمراء آرٹ میوزیم اس حوالے سے بھی اپنے اندر ایک خاص دلچسپی

کا پہلو سموئے ہوئے ہے کہ اس کی عمارت ایک منفرد طرز پر تعمیر کی گئی ہے،

لہٰذا شعبہ تعمیرات کے طالبعلم اس میوزیم کی عمارت کا مطالعہ کرنے کیلئے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں،

اس میوزیم کا کردار مصوری کے شعبے میں ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے،

یہ میوزیم مصوری کی اقدار کی پرورش کر رہا ہے، یہاں پر رکھے ہوئے فن پارے دیکھ کر ہمیں اپنے سیاسی، سماجی اور اخلاقی حالات کا بخوبی اندازہ ہو تا ہے۔

ہمارے مصور نے اپنی پینٹنگ میں اپنے سماج کو ہمیشہ سنبھالہ ہے،

یعنی سوسائٹی کے سدھارنے میں ہمارے مصور نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اپنے کردار ادا کیا ہے،

ہمارا مصور سماج کی خدمت کا آرزو مند رہا ہے،

مصوری کی کلاسز کا بھی باقاعدہ انعقاد جاری

اس شعبہ مصوری کی اہمیت کے پیش نظر الحمراء آرٹس کونسل کے

دونوں کمپلیکس میں مصوری کی کلاسز کا باقاعدہ انعقاد ہو رہا ہے،

جہاں طلبہ و طالبات ماہر اساتذہ سے تربیت حاصل کر رہے ہیں

جن کے حوصلہ افزائی کیلئے گاہے بگاہے الحمراء آرٹ گیلری

میں ان کے کام پر مبنی نمائشوں کا انعقاد بھی کروایا جاتا ہے تاکہ

ان کے کام میں مزید نکھار آئے۔

یہ میوزیم ہمارے مصوری کے شعبے میں اعلیٰ خدمات سرانجام

دینے والوں مصوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا ذریعہ بھی ہے،

جن کے کام کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے جسے بھرپور طریقے سے نبھایا جا رہا ہے۔

میوزیم میں آویزاں جو مصوری کے شاہکار ہیں ان میں کئی ایک وقت گزرنے کیساتھ ساتھ خراب ہو چکے تھے،

اور اپنی اصل شکل میں نہ رہے تھے، جنہیں ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کیں گئی

اور 2016ء میں ڈنمارک سے ان ماہرین کی ٹیم کو پاکستان بلوایا گیا

جنہوں نے اپنی اعلیٰ فراست سے ان فن پاروں کو ان کی اصل حالت میں بحال کیا۔

اگر ہم ان فن پاروں کو آج بھی دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے ابھی تازہ تازہ یہ فن پارے تخلیق کئے گئے ہوں،

اس حوالے سے لاہورآرٹس کونسل کی انتظامیہ بلاشبہ داد کی مستحق ہے جن کی شب و روز اعلیٰ خدمات سے یہ بڑا کام عمل میں لایا گیا۔

ہمارے مصوروں نے زندگی کے ہر پہلو کو اُجاگر کیا ہے

پاکستانی مصوری کے استاد، انہوں نے ان ہیئتوں کو ملا کر زندگی کی نقش کشی کی جوان کے زمانے میں زیر موضوع رہے،

پاکستانی مصور نے بھی اپنے اردگرد کے مسئلے کی نشاندہی کو اپنے کام میں جگہ دی ہے۔

جس طرح برقی طاقت اپنے اندر منفی اور مثبت قوتیں رکھتی ہے

اور تضاد اور اتصال کا نتیجہ ایک شعلہ، ایک روشنی ہوتا ہے،

اسی طرح سے ہیئتیں اپنے اندر مختلف قوتوں کی حامل ہوتی ہیں

اور وہ ایک باشعور فنکار کے ہاتھوں سطح تصویر پر بغل گیر ہونے کی منتظر رہتی ہیں۔

یعنی حالات سے مصور کی سوچ کی مطابقت ہی اس کا کردار تعین کرتی ہے،

مثلا اگر ہم اپنے گرد و پیش نظر ڈالیں تو ہمیں ہر اس مسئلے پر مصور کے فن پارے ملیں گے جو ہمارے اردگرد موجود ہیں۔

ہمارے مصور کا یہی کردار قابل تحسین ہے۔

حالات میں اُتار چڑھاو کے باجود تخلیقی عمل جمود کا شکار نہیں ہوا،

پاکستان کی تاریخ پر اگر ایک نظر ڈالیں تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ قوم روز اول ہی سے اتار چڑھاؤ دیکھتی چلی آ رہی ہے،

مگر ان بدلتے ہوئے حالات کے باوجود یہاں پر ہونیوالا تخلیقی عمل کبھی جمود کا شکار نہیں ہوا،

خواہ وہ افسانہ ہو، ناول نگاری یا شاعری، اس جہد مسلسل میں مصوری کا عمل بھی پیش پیش رہا ہے۔

پاکستانی مصوروں نے ہمیشہ ہی سے نئے تجربات کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں کی۔

اسی رویے کے نتیجے میں ہمیں شاکر علی، ایس صفدر، صادقین، خالد اقبال، سلیمہ ہاشمی، سعیداختر،

میاں اعجاز الحسن اور اقبال حسین جیسے قدر آور مصور دکھائی دیتے ہیں۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

الحمراء آرٹ میوزیم! ، الحمراء آرٹ میوزیم! ، الحمراء آرٹ میوزیم! ، الحمراء آرٹ میوزیم! ، الحمراء آرٹ میوزیم! ، الحمراء آرٹ میوزیم!

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

A.R.Haider

شعبہ صحافت سے عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں، متعدد قومی اخبارات سے مسلک رہے ہیں، اور جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی اردو سروس جتن نیوز اردو کی ٹیم کے بھی اہم رکن ہیں۔ جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: