اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو سے نوجوانوں کیلئے دستِ سوال

اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو

اس آدمی کی درخواست سامنے تھی، اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ کیا زیادتی ہے یے۔
میں بے بسی سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔ یونیورسٹی نے ایک سالا ماسٹرز پروگرام ختم کر دیا اور ہم سرائیکی بیلٹ والے کہیں کے نہیں رہے۔
اس بچی کا باپ مزدور تھا جو سڑکوں پر پتھر کوٹتا تھا۔ میلے سے کپڑے ٹوٹی چپل اور آنکھوں میں ڈھیروں حسرتیں۔سسکیوں کے درمیان ٹوٹی پھوٹی سی گفتگو ۔ اللہ مدد فرما۔ وہ اپنی بیٹی پڑھانا چاہتا تھا مگر یونیورسٹی فیس دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔

== یونیورسٹی فیس کا کوئی ریورس گیئر نہیں ہوتا، بڑھ گئی تو بس بڑھ گئی ==

ہر باشعور انسان کو معلوم ہے کہ یونیورسٹی فیس کا کوئی ریورس گیئر نہیں ہوتا، بڑھ گئی تو بس بڑھ گئی۔
مانا کے گورنمنٹ کو نظام تعلیم کیلئے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔ سو بی ایس آنرز تو شروع ہو گیا لیکن غریب بچارا رگڑا گیا۔
اس طبقے کی کون سنے گا؟۔ ریڑھی والے انکل جو بھٹا بھون کر بچے پڑھا رہے ہیں۔ مسجد کی نکڑ پر کھڑے ہو کر مسواک بیچنے والے نابینا بھائی۔
ریلوے اسٹیشن کے پان والے انکل۔ کیا بنے گا ان کا کون بنے گا ان کا سہارا؟
خدارا جامعات کچھ سوچیں۔ بی ایس آنرز کروانا کچھ غلط نہیں، میں خود میعار تعلیم کیلئے کیے جانیوالے ہر اقدام کیساتھ ہوں۔ مگر بی ایس آنرز 4 سال کون انتظار کرے گا۔؟

== اب 4 سال غریب ماں باپ کہاں سے بچے پڑھائیں گے؟ ==

پہلے دو سال میں ڈگری مکمل ہو جاتی تھی۔ سٹوڈنٹس کہیں نا کہیں نوکری کر لیتے تھے۔
مگر اب 4 سال غریب ماں باپ کہاں سے بچے پڑھائیں گے؟، کیا تعلیم کا ریشو گرے گا نہیں؟
انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار پروموشن آف سوشل سائنسز (ٰ IUCPSS )، 70 یونیورسٹیوں کی ایک تنظیم ہے-
جس کے روح رواں اور نیشنل کوآرڈینیٹر سر مرتضیٰ نور صاحب ہیں- وہ میرے منٹور سر بھی ہیں، ( الحمدللہ ) مجھے ایکٹو ممبر ہونے کی حثیت سے اس تمام صورتحال نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا یے۔
میں بہت رنجیدہ ہوئی ہوں۔ خدارا رحم کریں اور اس طبقے کا سوچیں۔ فیسوں میں اضافے واپس لیں۔

== ایک سالا بے اے اور ماسٹرز پروگرام دوبارہ بحال کریں ==

اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو ہم اپنے لیے آج کچھ نہیں مانگ رہے، ہم نے اپنے جوانوں کیلئے دست سوال دراز کیا یے۔ان جوانوں کیلئے جو ہمارا مستقبل ہیں- ان جوانوں کیلئے جو 65 فیصد آبادی ہیں، جو کل ملک سنھبالیں گے۔
۔دل رنجیدہ اور آنکھیں اشکبار ہیں یہ سب لکھنا ایک رائٹر ہوتے ہوے میرے لیے بھی مشکل یے۔
مشکلوں سے خود کی ہمت جمع کی ہے، اور کچھ سطروں کو کاغذ پر اتارنے کی جسارت کی ہے۔
خدا کرے کے جامعات پر ہمارے الفاظ اثر کریں، اور وہ فیصلے پر نظر ثانی کریں یا کوئی بیچ کا راستہ نکالیں-
مگر ریاست کے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد۔
اللہ آپ اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو ، اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو ، اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو

=-= مزید کالمز ، بلاگز ، فیچرز اور تحقیقاتی رپورٹس ( == پڑھیں == )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: