اغیار کی نظر میں سپہ سالار افواجِ پاکستان کو درپیش چیلنجز

لاہور: جتن خصوصی رپورٹ : اغیار کی نظر میں سپہ سالار

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف کو دو فوری اہم چیلنجز کا سامنا ہو گا،

پہلا ملک کی غیر مستحکم معاشی حالت اور دوسرا فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنا۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز اورامریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان پر دو مختلف خبریں شائع کیں،

پہلی، جب وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تعیناتی کے لیے 6 سینئر ترین جنرلز کے ناموں پر مشتمل سمری صدر عارف علوی کو بھیجی،

دوسری، جب صدر علوی نے پاکستان فوج کے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔

پڑھیں : جنرل باجوہ کا اعتراف مداخلت ؟

پاکستان میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر امریکی ذرائع

ابلاغ سمیت دیگر ٹی وی چینلز اور نیوز ویب سائٹ میں خبروں اور معلومات کا سلسلہ جاری تھا،

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عام طور امریکی میڈیا شاید ہی کبھی کسی

دوسرے ملک میں فوج کے نئے سربراہ کی تقرری کی خبریں شائع

کرتا ہے اور امریکہ اپنے ملک کے اندر اس طرح کی تقرریوں کے

حوالے سے بھی بہت کم دلچسپی رکھتا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی

گئی کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے نصف سے زائد عرصے تک

فوج کی حکمرانی رہی، صرف یہی نہیں بلکہ سویلین حکمران کے تحت

بھی فوجی قیادت نے پاکستانی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں : صدر مملکت کھیل بنائیں گے نہ بنیں گے

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ رواں سال اپریل میں عدم اعتماد کی ووٹنگ کے ذریعے پی ٹی آئی کے چیئرمین

عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا جس کے بعد انہوں نے الزام

لگایا کہ اس اقدام کے پیچھے پاکستانی فوج، امریکہ اور ان کے

سیاسی حریفوں کی سازش کار فرما ہے، جس کے بعد رواں سال

پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت اہم موضوع بنا۔

برطانوی اخبار دی تائمز نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی جانب سے فوج پر شدید تنقید کی وجہ سے فوج پر

عوامی عدم اعتماد رہا اور ملک کے اندر ہی ادارے کی ساکھ کی شدید نقصان پہنچا۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ سیاسی انتشار فوج کے اندر

اختلافات کی وجہ بنے، کئی نچلے درجے کے افسران خاموشی

سے پی ٹی آئی چیئرمین کی حمایت کر رہے تھے جبکہ اعلی

افسران عمران خان کے فوج پر الزامات کو برداشت نہیں کرپائے۔

یہ بھی پڑھیں : کیا حکومت کو کسی سانحہ کی منتظر، ؟

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے خارجہ پالیسی میں پاکستان کے آرمی چیف کا بہت

اہم کردار ہوتا ہے اور فوج کے نئے سربراہ کو مستقبل میں اس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہو گا۔

امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا

کہ صدر عارف علوی نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی منظوری

اس لیے دی کیونکہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ وزیراعظم

شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو 4 اسٹار جنرل پر ترقی دی ہے

اور اگر صدر عارف علوی فوج کے نئے سربراہ کی تقرری پر

توثیق میں تاخیر کریں گے، تب بھی جنرل عاصم منیر رواں ہفتے ریٹائر نہیں ہونگے۔

یہ پڑھیئے : امریکی سازش کا بیانیہ اور کپتان کا یوٹرن !

اس کے علاوہ امریکی ادارہ بی بی سی نے بھی فوج کے سربراہ

کی تعیناتی کی رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ نئے آرمی چیف

کو مستقبل میں پاکستان کے حریف بھارت سے تعلقات سمیت افغانستان

میں طالبان حکومت کیساتھ تعلقات اور دیگر امور میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

ملک کے تقریباََ تمام زرائع ابلاغ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

کی ریٹائرمنٹ کا حوالے دیتے ہوئے پاکستانی میں گزشتہ 70 برسوں میں

سیاست میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے بھی تجزیاتی رپورٹ شائع کی گئیں۔

وائس آف امریکہ نے کہا کہ نئے فوجی سربراہ نے سیاسی معاملات

میں مداخلت کی خبروں اور قیاس آرئیوں کے درمیان چارج سنبھال لیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو خاص طور پر سیاسی مداخلت پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

اغیار کی نظر میں سپہ سالار ، اغیار کی نظر میں سپہ سالار ، اغیار کی نظر میں سپہ سالار ، اغیار کی نظر میں سپہ سالار ، اغیار کی نظر میں سپہ سالار

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

A.R.Haider

شعبہ صحافت سے عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں، متعدد قومی اخبارات سے مسلک رہے ہیں، اور جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی اردو سروس جتن نیوز اردو کی ٹیم کے بھی اہم رکن ہیں۔ جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: