استغفر اللہ، استغفر اللہ اور بس استغفر اللہ (حصہ دوم)

گذشتہ سے پیوستہ : استغفر اللہ، استغفر اللہ (حصہ دوم)

ارے نادانو! آہستہ چلو، کونسی تم نے ڈاک پہنچانی ہے منزل پر نہ پہنچنے سے بہتر ہے کہ دیر سے ہی پہنچ جاؤ،

لیکن ان عقل کے اندھے، بے شعور لوگوں کو کون سمجھائے، تیز رفتاری شعار بن چکی ہے،

کسی کو سمجھایا بجھایا جائے تو ذرا سی دیر کئے بغیر گریبان میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں،

اب تو چلتے پھرتے دفعہ 302 اور کم از کم دفعہ 307 خود پر لگنے کا اندیشہ رہتا ہے،

لوگ بوجہ مہنگائی اور بیروزگاری دوسروں کے ذمہ لگنے کی کوششوں میں مصروف ہیں

کہ چلئے کسی بھلے آدمی سے نوٹ اور کھرے نوٹ بٹور لیں گے اور اگر مریں گے بھی تو دو چار کو ساتھ لیکر مریں گے۔

پڑھیں : استغفر اللہ، استغفر اللہ اور بس استغفر اللہ ( حصہ اول )

اب آپ ہی بتائیے اس میں معاشرہ کے انتہائی شریف النفس لوگوں کا کیا قصور ہے،

ہمارے ایک دوست نے مذاق میں ہم سے برجستہ کہا ’’ ہے قصور ان لوگوں کا ‘‘، ہم نے پوچھا کیوں ؟

تو جواب ملا اس سے بڑی نادانی و بیوقوفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایسے ظالم، بیہودہ اور بے حس معاشرہ میں کوئی خود کو شریف رکھے۔

ارے اس دور جدید والے تو شریفوں کو بیوقوف، نامعقول اور ناسمجھ کہتے ہیں،

اب ایسی حالت میں شریف آدمی استغفر اللہ نہ کہے تو اور کیا کہے،

ہمارے بعض کلاس فیلوز، ہمارے لنگوٹیا یار ہم سے اکثر کہتے ہیں نیئر صاحب ! عجیب آدمی ہو،

بچوں کیلئے کوئی گھر بنایا نہ بینک بیلنس بلکہ اپنے آبائی گھر کو بھی فروخت

کر کے وہ پیسے بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دئیے ہیں۔

تو ہم اپنے ان خیر خواہوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ میاں ! ہم نے گھر فروخت نہیں کیا

گارے اینٹوں سے بنا مکان بیچا ہے اور پھر بچوں کیلئے مکان نہیں بنایا،

گھر اس وقت بھی قائم تھا، ماشاء اللہ آج بھی قائم ہے،

ہم اس عزت و احترام سے ملنے والی دو وقت کی روٹی پر اللہ کریم کے بے حد شکر گزار ہیں،

اعلی ٰ تعلیم اور بہترین تربیت ضرور دی ہے بچوں کو، جس پر ہمیں فخر حاصل ہے۔

مزید پڑھیں : صحافت یا پل صراط؟

دوستوں سے جواب ملتا ہے یار! اچھا ہی کیا، ہم نے اولاد کو کروڑوں کی جائیدادیں بنا کر دی ہیں،

دن میں ایک بار بھی حال تک نہیں پوچھتے، تو ہم انہیں کہتے ہیں کیا ناں آپ نے گھاٹے کا سودا،

لیکن ایک بات ضرور ہے اس دور میں چونکہ اکثریت غلط اور کرپٹ لوگوں کی ہے،

اسلئے ہر طرف انہی کی "جئے جئے کار ” ہے، شریف اور شریف زادے منظر سے آؤٹ کر دئیے گئے ہیں۔

ہم نے کئی بار سوچا کہ وزیراعظم صاحب سے بالمشافہ بات چیت کریں یا انہیں ایک بھرپور خط لکھ بھیجیں۔

پھر خیال آیا، وہاں تک خط پہنچنے سے قبل کئی ہاتھ اسے کھولیں گے،

پڑھیں گے سب سے پہلے اپنی عافیت کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ردی کی ٹوکری ہی کی نذر کر دیں،

اسی لئے سوچا کہ اپنے وہ جذبات جوہر لحاظ سے ملک و قوم کے مفاد میں ہیں اپنے اس کالم کے ذریعہ کیوں نہ لکھ بھیجیں۔

وزیراعظم کی بھی شاید نظر پڑ جائے اور قارئین کرام تو بہرحال ضرور پڑھ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیئے : شطرنج اور تماشائی !

تو صاحبو ! لیکس ویکس اور ایسی کئی شرارتیں کسی نہ کسی کی چھتری تلے ہی ہو رہی ہوتی ہیں۔

وزیراعظم یہ ہر گز نہ سمجھیں کہ ان کے تلے کام کرنیوالے تمام تر اداروں اور وزارتوں میں تعینات

بیورو کریٹ اور دیگر سیاسی لوگ ان کی حامی ہیں، چند ایک کے سوا ساری گڑ بڑ یہیں سے شروع ہوتی ہے،

سفارش اور رقم کے بلبوتے پر ملازمتیں حاصل کرنے اور پر تعیش آسامیوں پر خود کو فٹ کرانے والے نالائق ہی مسائل کھڑے کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔ ( ۔۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔ ) ۔۔۔۔۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

استغفر اللہ، استغفر اللہ (حصہ دوم) ، استغفر اللہ، استغفر اللہ (حصہ دوم) ،استغفر اللہ، استغفر اللہ (حصہ دوم)

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: