سینئر اداکار مسعود اختر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے،سپرد خاک

لاہور (جے ٹی این پی کے)  اداکار مسعود اختر  انتقال کر گئے

فلم،ٹیلیوژن اور تھیٹر کے سینئر اداکار مسعود اختر طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 80 سال کی عمر میں گزشتہ روز خالق حقیقی سے جا ملے۔

وہ طویل عرصے سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے ۔ گزشتہ دو ماہ سے لاہور کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

مرحوم کی نماز جنازہ عثمان پارک گلشن راوی میں ادا کی گئی جس میں شوبز کے علاوہ اہل علاقہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

مسعود اختر کو پھیپھڑوں کے کینسر سمیت دیگر امراض لاحق تھے اور انہیں سانس لینے میں شدید مشکلات درپیش تھیں۔

مسعود اختر گزشتہ برس اکتوبر کے بعد زیادہ علیل ہوگئے تھے،

گزشتہ سال ان کے 50 سالہ اکلوتے بیٹے علی رضا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔

مسعود اختر قیام پاکستان سے قبل ستمبر 1940 میں پنجاب کے شہر ساہیوال میں پیدا ہوئے اور انہوں نے گوجرانوالہ اور لاہور میں بھی تعلیم حاصل کی ۔

گھر والے انہیں بیرسٹر بنانا چاہتے تھے اور وہ اپنے گھر والوں کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے حتی الامکان کوشش بھی کرتے رہے ۔

وہ بینک میں نوکری کے ساتھ ایل ایل بی بھی کر رہے تھے اور اس کے ساتھ انہوں نے ریڈیو پاکستان جانا بھی شروع کر دیا تھا ،

اسی دور میں ایک اردو کانفرنس میں ان سے زبردستی ایک کردار کرایا گیا جس کے بعد انہوں نے اسٹیج کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کا شمار سٹیج کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔

پی ٹی وی کے آنے کے بعد اس پر کام کرنے والے فنکاروں میں مسعود اختر کا نام بھی شامل ہے ۔

1960 کے بعد پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) لاہور سے کیریئر کے آغاز کیا۔

انہوں نے 1968ء میں سلور سکرین پر انٹری دی ۔

شباب کرانوی نے انہیں ایک کردار کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا

اور مسلسل تین ماہ تک اصرار کے بعد وہ فلم میں کام کرنے کے لئے راضی ہو گئے

اور ان کی پہلی فلم سنگدل تھی جس نے بے پناہ کامیابی حاصل کی۔

مسعود اختر نے اداکاروں کی رہنمائی کے لئے ایک کتاب ایکٹنگ گائیڈ بھی تحریر کی جسے پاکستان سے زیادہ برطانیہ میں شہرت ملی ۔

مسعود اختر کو حکومت کی جانب سے فن کی خدمات کے اعتراف میں 14اگست2015ء کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

مسعود اختر نے پی ٹی وی کے علاوہ ریڈیو پاکستان میں بھی اداکاری اور صداکاری کی اور ان کا شمار 1980 کے مقبول ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔

انہیں ان کی منفرد اداکاری کی وجہ سے بھی خصوصی شہرت حاصل رہی،

انہوں نے مرکزی کرداروں کے علاوہ معاون کردار بھی ادا کئے جب کہ انہیں منفی کرداروں میں سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔

مسعود اختر نے ماضی کے مقبول ڈراموں میں منفی کردار ادا کرکے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جب کہ انہوں نے متعدد اردو فلموں میں بھی ولن کے کردار ادا کئے۔

انہیں ان کی شاندار اداکاری پرمتعدد ایوارڈز بھی ملے اور حکومت پاکستان نے انہیں زائد العمری میں 2005 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔

مسعود اختر کے انتقال پر شوبز شخصیات کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو فن کی دنیا کے لئے بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

فنکار برادری نے سینئر اداکار مسعود اختر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہ ان کے انتقال سے ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔

انہوں نے ہر طرح کاکردار نبھایا لیکن اپنے فن کے ذریعے اس کردار میں ایسی جان ڈالی کہ وہ کردار ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا ۔

مرحوم کا شمار فن کے ان اساتذہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اداکاری کے اصول وضع کئے او رجس نے بھی ان کی پیروی کی کامیابی اس کا مقدر ٹھہری ۔

شوبز شخصیات نے دعا کی کہ اﷲ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔

اداکار مسعود اختر  انتقال کر گئے

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: