اداروں پر تنقید قابل تعزیرجرم قرار، بل بھی منظور

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے) اداروں پر تنقید قابل تعزیرجرم

وفاقی حکومت نے اداروں پر تنقید کو قابل دست درازی جرم قرار دینے، الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا،

تفصیلات کے مطابق حکومت نے پر یوینشن آف الیکڑانک کرائم ایکٹ 2016ء اورالیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ قوانین میں ترامیم کی منظوری دیدی ،

ایکٹ میں ترمیم کے بعد عدلیہ، فوج اور دیگر اداروں کیخلا ف نفرت انگیز مہم چلانے والوں کیخلاف کار ر وا ئی ہو گی،

مجوزہ ترمیم کے ذریعے اداروں پر تنقید کرنیوالوں کو 3سے 5سال تک سزا دی جا سکے گی،

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جلد جاری کیا جا ئیگا ۔

ذرائع کے مطابق کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے سے سمری کی منظوری لی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں : خاتون اول کی تضحیک پرمریم نواز کی گرفتاری کی درخواست دائر

ذرا ئع کے مطابق فوج، عدلیہ، شخصیات سمیت دیگر اداروں اور کسی کیخلاف نفرت انگیز مہم چلانے پر ایکشن ہو گا۔

ذرائع کے مطابق صدر مملکت کی منظوری کے بعد آرڈیننس کا اطلاق ہوگا،
پیکا ایکٹ 2016 میں بھی ترمیم ہو گی۔

ارکان پارلیمان اور وزراء بھی انتخابی مہم میں حصہ لے سکیں گے

جبکہ انتخابی مہم میں حصہ لینے کے حوالے سے بھی وفا قی حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا ہے ۔

اب ارکان پارلیمان اور وزراء بھی انتخابی مہم میں حصہ لے سکیں گے۔

وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

انتخابات کی مہم میں وزرا، اراکین اسمبلی سب حصہ لے سکیں گے۔

اس سے پہلے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی الیکشن کمپین میں حصہ لینے پر پابندی تھی۔

حصہ لینے پر ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن کے شوکاز نوٹسز کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اس ضابطہ اخلاق پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اب اس میں تبدیلی کیلئے وفاقی کا بینہ نے نئے آرڈیننس کی منظوری دیدی ہے۔

دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سایٹ پر اپنے ٹویٹ میں تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کو دو اہم قوانین منظوری کیلئے بھجوا ئے گئے ۔

جن میں پہلے قانون کے تحت پارلیمنٹیرینز کو الیکشن کمپین میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے

جبکہ دوسرے قانون کے تحت سوشل میڈیا پرلوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیدیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مزید بتایا کہ عدالتوں کوپابندکیا گیا ہے کہ فیصلہ 6 ماہ میں کیا جائے۔

اداروں پر تنقید قابل تعزیرجرم

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: