آٹے کا بحران پینا ڈول شارٹ

کالمز بلاگز فیچرز/ آٹے کا بحران پینا ڈول شارٹ

مخلص لیڈر، ہمدرد حکمران نہ ملنا قوم کی بد نصیبی نہیں تو اور کیا۔،

مہنگائی و بد امنی کے ہاتھوں لوگ جاں بلب ہیں روزمرہ بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی اور داموں میں

روز افزوں اضافے نے لوگوں کو جیتے جی مار کر رکھ دیا ہے۔

لیکن دوسری جانب خزانہ خالی ہونے بلکہ بیرونی قرضوں تلے دبی ریاست کے حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ اور فضول خرچیاں بھی عروج پر ہیں، یہ کرپٹ عناصرلوٹ مار کی دولت کی نمائش اپنی قیمتی گاڑیوں، لباس اوروسیع وعریض عالیشان رہائش گاہوں کی شکل میں کر رہے ہیں دنیا کے بڑے اور امیر ممالک کے افسر جو امداد اور قرضہ دینے والے ہیں وہ بھی اس قدر عیاشی والے ٹھاٹھ باٹھ نہیں رکھتے۔

ہمارے دیس میں غریب بھیک مانگ رہا ہے، متوسط طبقہ قرض میں رہا ہے جبکہ امیر مزید مانگ رہا ہے، اور خط غربت سے نیچے خاندان ۔۔؟

سنگدلی اور بے رحمی کی انتہاء تو دیکھی کہ ملک میں بنیادی خوراک آٹا غریب کی پہنچ سے دور ہوچکا ہے یعنی اب غریب کیلئے اپنا اور اپنے کمبے کا پیٹ پالنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں رہا ، ہمارے ہاں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بتانے والے افراد کی اکثریت ہے۔ یہ لوگ پہلے روکھی سوکھی کھا کر پیٹ پال لیتے تھے لیکن اب جب ایک کلو آٹا بھی کم آمدنی والے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور جس سربراہ خانہ پر اس سمیت کم از کم چھ افراد کی کفالت کی ذمہ داری ہے ایسے لوگ ہر روز کلو آٹے کا بندوبست کہاں سے کریں گے یہاں رونا اس بات کا ہے کہ دوا دارو، پھل فروٹ سمجھو کہ ایسے لوگوں کے مقدر میں نہیں لکھا تب بھی دو وقت کی روٹی کا بندوبست تو کافروں کی حکومتیں بھی اپنے عوام کے لئے کرتی ہیں، پھر ریاست مدینہ کے پیروکاروں کو کیا ہوا۔برائے نام مسلمانی کا دعوی کرنے والوں کو حضرت عمرابن الخطاب (رض) کا دور حکمرانی بھی نہیں یاد رہا ۔ انکا فرمان تھا کہ دریائے نیل کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا سویا تو اس کی زمہ داری بھی مجھ پر ہوگی۔

سیاست خدمت انسانی ایک عبادت یا منافع بخش کاروبار، عیش و عشرت والی زندگی کا زریعہ

آج وطن عزیز پاکستان میں سیاستدانوں اور حکمرانوں کو اپنی سیاست اور حکومت بچانے کی فکرلاحق ہے،

ملک اور قوم سر سے پاؤں تک بیرونی قرضوں میں ڈوبے ہیں، مزید قرضوں کے حصول میں مشکلات کے

پیش نظر آئی ایم ایف اور امریکہ کے ڈو مور مطالبات کے آگے سر بہ خم ہیں اور مجبور و مقہور عوام پرمہنگائی

کے لا متناہی کوڑے برسائے جا رہے ہیں ۔حالانکہ عمران حکومت کی مہنگائی سے عاجز عوام کو

پی ڈی ایم نے راحت کاری کا لالی پاپ دیا تھا۔ لیکن اقتدارمیں آجانے کیبعد وہی پرانا راگ الاپنا شروع کردیا

کہ سابقہ حکومت کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور مجبورا آئی ایم ایف کی شرائط پر عوام پر

بلا جواز ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ ڈالنا پڑے گا۔ بہت آسان سی بات ہے اگرآپ لوگ عوام کی تکالیف میں

کمی لانے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے جو کہ حالات سے واضح تھا تو پھر یہ زمہ داری کیوں اپنے سر لے بیٹھے 

دراصل ہمارے تمام سیاستدان اور حکمران عوام کے حق میں کبھی مخلص تھے نہ اب ہیں۔ انہیں اپنی سیاست ،

اقتدار اور پھر لوٹ مار سے غرض ہے۔ جو انہیں حاصل ہو جانے پرعوام اور اس کی تکالیف کو پس پشت ڈال

دیا جاتا ہے اور ذاتی مفادات کی خاطر اسے دوام دینے کے زرائع ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

===> معیشت و کاروبار کی مزید اہم خبریں (== پڑھیں ==)

اج ایک زرعی ملک میں جہاں نہروں کا جال بچھا ہے جہاں اپنی ضرورت سے زیادہ اناج اگایا جا سکتا ہے۔

وہاں لوگ مٹھی بھر آٹے کے لئے محتاج ہیں۔ لائنوں میں لگ کر خراب کوالٹی کا آٹا مہنگے داموں خریدنے

پر مجبور ہیں۔۔ کیا یہ انصاف ہے؟؟ بقول شاعر

یہاں سوکھی روٹی بھی گراں ہے باقی سب ہے خیریت

خبروں۔/ بیانات اور اشتہارات کیلئے ہمارے بیورو چیف خیبر پختونخوا سے رابطہ کیلئے وٹس ایپ بٹن کا استعمال کریں شکریہ

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

آٹے کا بحران پینا ڈول شارٹ

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: