آئینۂ حسینیت میں (حصہ دوم )

خصوصی ایڈیشن / آئینۂ حسینیت میں (حصہ دوم )

امام حسینؑ نے یزید کی عیش کوشیوں اور عوام کے ساتھ کی گئی بے انصافیوں کے بارے میں فرمایا:

لوگو! ان حکمرانوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کرکے رحمان کی اطاعت ترک کر دی ہے۔

فساد و فتنہ برپا کیا ہے اور اللہ کی حدود کو معطل کر دیا ہے۔ ان لوگوں نے بیت المال پر تصرف جما رکھا ہے اور شریعت الٰہی کے حلال کو حرام قرار دے دیا ہے۔

کیا آج ہم نہیں دیکھتے کہ حکمرانوں نے رحمان کی اطاعت ترک کررکھی ہے۔ شیطان کی اطاعت اختیار کرلی ہے۔

فساد و فتنہ برپا کیا ہوا ہے۔

ملک میں انتہا پسندی اور فرقہ پرستی کا دور دورہ ہے اور اس کا خاتمہ حکمرانوں کی ترجیح دکھائی نہیں دیتا۔

ملک کے اندر ہر کوئی خوفزدہ ہو کر زندگی گزار رہا ہے اور ملک کی سرحدیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ ان کی عیش کوشیوں میں کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی۔

پولیس عوام کی حفاظت کے لئے نہیں گویا ان کی حفاظت پر مامور ہے۔ ملک کا ایک بڑا سرمایہ انکے

کروفر کو باقی رکھنے پر خرچ ہو رہا ہے ۔ حکمرانوں نے حدود الٰہی کو معطل کر رکھا ہے۔

قصاص حدود الٰہی میں سے ہے۔ عدالتوں سےانصاف کی فراہمی میں تاخیردرتاخیر معمول بن چکی ہے

بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انصاف معدوم ہوتا جارہا ہے، جن مقدمات کے فیصلے ہوچکے

ہیں ان فیصلوں پرعملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ ان لوگوں نے بیت المال پر تصرف جما رکھا ہے۔ لوگوں کے

اموال میں ناجائز تصرف کرتے ہیں۔

کرپشن کے ذریعے سے انہوں نے ملک کو کھوکھلا کردیا ہے۔ اس ملک پران حکمرا نوں نے غیرملکی

استعماری طاقتوں کو غلبہ دے دیا ہے۔ یہ ان کے گماشتے ا و ر ان شیطانوں کے کارندے بن چکے ہیں۔

اسی کو شریعت الٰہی کے حلال کو حرام کرنا کہتے ہیں۔

امام حسینؑ نے کربلا کے قریب پہنچ کر اپنا راستہ روکنے والی یزیدی فوج کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

لوگو! رسول اکرمؐ نےارشاد فرمایا ہےکہ اگرتم میں سے کوئی کسی ظالم حکمران کو اس حالت میں دیکھے کہ

وہ محرمات الٰہی کو حلال کرتا ہے، اللہ (ج) کے عہد کو توڑتا ہے، سنت رسول کی مخالفت کرتا ہے اوراللہ(ج)

کے بندوں پرزیادتی کرتا ہے تو ان حالات میں اپنی آواز یاعمل کے ذریعے جو ان کو نہ روکے تو وہ اس ظالم

کی طرح مستحق عذاب ہے۔

اس صورتحال نے امام حسینؑ کو بے قرار کر دیا اور انہوں نے باطل نظام سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔

 

اس فیصلے کو ابن جریر طبری نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے:


ترجمہ، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ حق پرعمل نہیں کیا جا رہا اور باطل سے روکا نہیں جا رہا،

پس مومن کو چاہیے کہ اس صورتحال میں اللہ (ج) سے ملاقات کی تمنا کرے۔ ایسے میں میں

موت کو اپنے لئے سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا اور ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا مجھے ہرگز گوارا نہیں۔
آیئے ہم سب آئینۂ حسینیت میں اپنا سراپا دیکھیں۔

اپنے کردار کا حسینی کردار سے موازنہ کریں اور پھر خود سے اندازہ کریں کہ ہم معرکۂ حق و باطل

میں کس طرف کھڑے ہیں۔(۔۔۔۔۔۔)

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

آئینۂ حسینیت میں (حصہ دوم )

۔۔۔۔۔

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: