آئینۂ حسینیت میں (حصہ اول)

آئینۂ حسینیت میں (حصہ اول)

عجیب دور ہے کہ امام حسینؑ کی یاد کے ایام آتے ہیں تو ہر طرح کے لوگ امام حسینؑ اور ان کے اہل بیت و انصار کو خراج عقیدت پیش کرنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی اس روایت میں شریک ہو جاتے ہیں کہ جن سے آج کے انسانوں کو وہی شکایات ہیں جو امام حسینؑ کو اپنے زمانے کے حکمرانوں سے تھیں۔ ضروری ہے کہ حکمرانوں سے لےکر عام مسلما ن تک اپنے آپ کو آئینۂ حسینی ؑکے روبرو کر دے اور پھر جائزہ لے کہ وہ کس قدر حسینی ہے۔

پاکستان میں پچاس فیصد لوگ گنداپانی پینےپر مجبورہیں۔

یہ بیان ہمارا نہیں بلکہ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب کا ہے۔

وہ کئی ماہ سےبار بار یہ بیان دےرہے ہیں۔ یزید کی فوج نے امام حسینؑ اورانکے ساتھیوں پرپانی بندکر دیاتھا۔

یہاں تک کہ خیام حسینی سے ننھے منھے بچوں کی’’ العطش العطش ‘‘کی صدائیں آتی تھیں۔

آج کے بچے ’’العطش العطش ‘‘تو نہیں کہتے لیکن !

ہسپتالوں کے اعداد و شمار گواہ ہیں کہ لاتعداد بچے گندا پانی پینے سے جاں بحق ہو رہے ہیں۔

آج کےحکمران ان بچوں کوپانی تودیتے ہیں لیکن یہ پانی پی کر بھی بچے اسی طرح ایڑیاں رگڑ رگڑ کرمرتےہیں

جس طرح کربلا والوں کے بچے شدت پیاس سے ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔

ہر دور کے یزید کی محفل میں بیٹھ کر دیتے ہیں لوگ گالیاں گزرے یزید کو کے مصداق

حکمرانوں میں ایسے بھی ہیں جنکےبارے میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں چھپ چکی ہیں کہ وہ اپنےپینے کیلئے پانی

فرانس سے منگواتے ہیں اور اپنے گھوڑوں کے لئے بھی فرانس سے کھانے کے لئے اعلیٰ غذائیں درآمد کرتے ہیں۔

حکمرانوں میں ایسے بھی ہیں جو فرات پرپہرے تو نہیں بٹھاتے لیکن اپنی زمینوں کو غریبوں کے حصے کے پانی

سے سیراب کرکے غریبوں کو بھوکا مارنے کا بندوبست کرتے ہیں۔

گویا یہ پوری کی پوری نہریں اور دریا ہی اغوا کرکے لے جاتے ہیں۔ ان میں سے کتنے ہی ہیں

جو ہرسال محرم الحرام کی آمدکے موقع پر امام حسینؑ کو خراج تحسین پیش کرنیکی روایت شوق وذوق سےپوری کرتےہیں۔

جیب میں 12 روپے اور معدہ خالی، کون قبول کرے اس کے بھوک سے مرنے کی زمہ داری

یزیدیوں نےامام حسینؑ کے یار وانصار کوبھوکا رکھا۔ آج پاکستان میں10کروڑ انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہےہیں

اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ 10 کروڑ انسانوں کو ان کی کھانے کی ضرورت سے بہت کم مقدار میں کھانا میسر ہے اور جنہیں کھانا میسر ہے ان کے کھانے کا معیار بھی قابل ذکر نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں ایک نوجوان کی لاش ملی، جس کا پوسٹمارٹم کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کئی دنوں سے اس کے معدے میں کوئی خوراک نہیں گئی۔ اس کی جیب سے 12 روپے برآمد ہوئے۔ اس کی شکل و صورت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی پڑھا لکھا نوجوان ہے۔ دوسری طرف امراء کے کھانے ہیں کہ جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں سے جو کھانا بچ جاتا ہے، اس کا حساب لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کھایا کم گیا ہے، جو بچ گیا ہے اس سے کہیں زیادہ ہے۔

حکمران کئی بدلے، شکوہ مگر وہی رہا۔ ۔

اسی طرح قحط سالی کے موسم میں تھر کے علاقے میں جس انداز سے بچے مرتے ہیں، ان کی خبریں دل کو ہلا دینے والی ہوتی ہیں، لیکن حکمرانوں کا کہنا ہے کہ یہ خبریں ان کو بدنام کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ نشر کر تے ہیں۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہنے والی بات تو یہ ہے کہ ان حکمرانوں میں’’سادات کرام‘‘ بھی شامل ہیں جن کے بزرگوں کو کربلا میں بھوکا اور پیاسا تہ تیغ کر دیا گیا، جن کا حکمرانوں سے یہی گلہ تھا کہ وہ بیت المال کو ناجائز طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ جنہیں حکمرانوں کی عوام دشمنی اور عیش پسندی کا شکوہ تھا۔

مورخ مسعودی کہتے ہیں


یزید عیش پسند تھا، اس کے پاس شکاری جانور کتے، بندر اور چیتے تھے۔ اس کے ہاں شراب کی محفلیں جمتی تھیں۔ قتل حسینؑ کے بعد ایک دن شراب کا دور چل رہا تھا، ابن زیاد یزید کے داہنی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ یزید نے ساقی کو مخاطب کرکے کہا: اے ساقی! مجھے ایسا جام پلا جو میری طبیعت کو سیراب کر دے، پھر ایک ایسا ہی جام ابن زیاد کو دے جو میرا ہم راز اور معتمد ہے، جو میری کامیابیوں اور کوششوں کو مستحکم کرتا ہے۔

یزید اور فرعون میں فرق۔،


مسعودی مزید لکھتے ہیں ،بلکہ فرعون یزید سے زیادہ اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرتا تھا اور عوام و خاص کے ساتھ یزید سے بڑھ کر انصاف پسند تھا۔ (۔۔۔جاری۔۔۔)

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

آئینۂ حسینیت میں (حصہ اول)

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: